Wednesday, January 8, 2014

پیرس میں ایک ماں کی خواہش

پیارے بچو! کیا آپ جانتے ہیں؟ ایک دن پیرس کے ایک محلے کی مسجد میں مسی نامی  ایک بچہ داخل ہوا، مسجد میں امام صاحب بچوں کو قرآن پڑھا رہے تھے ، بچے نے امام صاحب سے کہا: سر!  میری اماں جان نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ تاکہ آپ مجھے اپنے مدرسے میں داخل کروائیں، اور مجھے بھی قرآن پڑھنا سکھائیں۔ مسجد کے امام صاحب نے کہا: بیٹا! آپ کی امی جان کہاں ہے؟ ۔ بچے نے کہا: میری امی جان مسجد کے باہر روڈ پر کھڑی ہیں، لیکن وہ مسجد میں نہیں آسکتیں، اس لیے کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ امام صاحب نے جب بچے کی یہ بات سنی تو فورا مسجد سے باہر نکلے اور بچے کی امی جان  کو مسجد  میں موجود اپنے دفتر میں آنے کے لیے کہا، اس نے آنے سے انکار کیا اور کہنے لگی کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔پھر کہنے لگی" میری ایک پڑوسن ہے، جب اس کے بچے مدرسہ جاتے ہیں تو اپنے ماں کے ہاتھوں کو چومتے ہیں، جب میں ان بچوں کو اپنی ماں کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ایک بہت اچھی بات کہی، اس نے کہا: جناب! میں نے پورے پیرس میں ایک بھی مسلمان ایسا نہیں دیکھا جس نے اپنے ماں باب کو اولڈ ہاوس میں رکھا ہو، بلکہ ہر مسلمان اپنے ماں باپ کی خدمت کرنا پسند کرتا ہے۔ جناب!  آپ میرے اس بچے کو اپنے مدرسے میں داخل کردیجیے۔ تاکہ میرا یہ بیٹا بھی بڑا ہونے کے بعد میری خدمت کرنے والا بنے۔ پیار ےبچو! اللہ کا کتنا بڑا انعام ہے کہ اللہ نے آپ کو مسلمان بنایا،اور پیارے ماں باپ دیئے۔ تو کیا آپ ماں باپ کا  کہنا مانتے ہیں؟